HRPA STATE MEMBERS

A human reading a powerpoint presentation

human rights issues

ملی اداروں کی حفاظت کیلئے ملت کے ایک ایک فرد کو سامنے آنا ہوگا ہیومن رائٹس پروٹیکشن ایسوسی ایشن کے صدر و قائد اردو شمیم احمد کا خصوصی انٹرویو


ملی اداروں کی حفاظت کیلئے ملت کے ایک ایک فرد کو سامنے آنا ہوگا ہیومن رائٹس پروٹیکشن ایسوسی ایشن کے صدر و قائد اردو شمیم احمد کا خصوصی انٹرویو حقوق انسانی کے تحفظ کیلئے ہندوستان بھر میں اپنامنفرد مقام و شناخت قائم کرنے والے قائداردو شمیم احمد نے زندگی میں کئی سنگ میل عبور کیے ہیں۔گزشتہ دودہائیوں سے شمیم احمد پر کٹھن راہوں پر چل کر مستقبل کے امکانات کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ایک طرف جہاں وہ ملک میں فرقہ پرستی کے خاتمے کیلئے دھرم سنسد سے مہا پنچایت کا انعقاد کررہے ہیں وہیں ملک کی خاک چھان کر مظلوموں و بے کسوں اور بے سہارا افراد کو انصا ف دلانے کیلئے اپنی پوری ٹیم کے ساتھ مصرو ف عمل ہیں۔ان کی زندگی سب سے بڑی کامیابی مغربی بنگال میں موثر، کامیاب اور نتیجہ خیز ”اردو تحریک“ ہے۔ان کی ہی تحریک و کاوشوں کا نتیجہ تھا کہ 2011میں ممتا بنرجی اقتدار میں آتے ہی اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کا اعلان کیا۔اس کے علاوہ ہیومن رائٹس پروٹیکشن ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے حقوق انسانی کے شعبے میں ایسے متعدد کارنامے انجام دیے ہیں جس کی گونج کئی دہائیوں تک سنی جائے گی اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔علاوہ ازیں شمیم احمد کے سرپر عالمی سامراجی نظام کو طشت ازبام کرنے کا سہرا بھی جاتا ہے اور انہوں نے کلکتہ کی سڑکوں پر اتر کر فلسطین، روہنگیااور پاکستان میں ہندؤں پر ہونے والے مظالم کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرانے اور ان کی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوششیں برگ آور ثابت ہوئی ہیں۔شمیم احمد کی زندگی کا مقصد ہی تحریک بن چکا ہے اور وہ مسلسل رواں دواں ہے۔ قائد اردو شمیم احمد نے”مغربی بنگال میں مسلمان اور مسلم قیادت کے عنوان سے“مشہور صحافی نوراللہ جاویدسے تفصیلی گفتگو کے دوران بہت ہی بے باکی اور صاف گوئی سے انہوں نے مسلمانوں پرطاری جمو د و تعطل، شکست و ریخت کے شکار مسلم اداروں،اردو زبان کی کسمپرسی اور مسلمانوں کی حقوق تلفی سے متعلق سوالات کے جواب دیے۔ نور اللہ جاوید کیا مغربی بنگال کے مسلمانوں پر جمود تعطل جاری ہے؟ شمیم احمد:اس سوال کو مغربی بنگال کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے ہندوستانی مسلمانوں کی مجموعی صورت حال کو دیکھائے جائے توزیادہ بہتر ہے۔کیوں کہ بنگال ہی نہیں اس وقت ہندوستانی مسلمان جمود و تعطل کے شکار ہیں۔حرکت جو ایک زندہ قوم کی علامت ہے سے کم وبیش بحیثیت قوم مسلمان عاری ہوچکے ہیں بلکہ میں یہ کہوں گا مرکزمیں قیادت سنبھالنے والی قوتوں نے ہی ملک بھر میں ایسا ماحول پیدا کردیا ہے کہ مسلمان کیا دیگر پسماندہ مظلوم ؎طبقات آواز بلند کرنے میں خو ف زدہ ہیں۔جہاں تک سوال مغربی بنگال کا ہے تواس کا جواب ہاں میں ہے اور یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے بعد مسلمانوں میں جو بیداری آئی اور حقوق کیلئے جو آوازیں بلند ہوئیں آج وہ آوازیں تقریباً خاموش ہیں۔اردو کو سرکاری زبان کا درجہ مل چکا ہے مگر کیا صورت حال ہے۔اردو کے اداریں اسکول، اکیڈمی و کالج بدحالی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں؟ نور اللہ جاوید آپ اس لئے کسے قصور وارسمجھتے ہیں؟ ہمیں حکومت کی لعن وتشنیع کرنے کے بجائے اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ مسلم اداروں کے سربراہوں اور قائدین کیا کیا؟ مثال کے طور پر اردو اکیڈمی کو ہی لے لیجئے بایاں محاذ کے دور حکومت میں اکیڈمی کا جو بجٹ تھا اس میں صدفیصد اضافہ ہوا۔اب شاید 17کروڑ روپیہ سالانہ بجٹ ہے جب کہ پہلے یہ بجٹ ایک کروڑ روپیہ بھی نہیں تھا۔مگر سوال یہ ہے کہ ان 17کروڑ روپیہ کو کہاں خرچ کیے جاتے ہیں؟ کیا اکیڈمی کے پروگراموں اور منصوبوں سے اردو کے مستقبل کے امکانات روشن ہوئے ہیں؟ اگر ہم ان سوالوں پر غور کرتے ہیں تو مایوسی ہاتھ لگتی ہے؟ کیوں کہ سمیناروں، جلسے و جلوس اورمشاعروں سے کسی بھی زبان کا مستقبل روشن نہیں ہوتا ہے؟ہم مشاعروں کے مخالف نہیں ہیں؟مگر مشاعرے کی نوعیت پر ہمیں اعتراض ہے۔من پسندیدشاعروں پر لاکھوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔جب کہ ہونا یہ چاہیے کہ اردو اکیڈمی اردو کے فروغ کیلئے لائحہ عمل بناتی۔اردو میڈیم اسکولوں کے معیار کو بلند کرنے اور اردو میڈیم کے طلباء کو قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے اقدامات کیے جاتے ہیں۔اردو کو روزگار سے جوڑا جاتا ہے مگر اکیڈمی کیا کررہی ہے، کروڑوں روپے کا بندر بانٹ کیا جارہا ہے۔کرپشن و بدعنوانی کا بول بالا ہے۔اپنے لوگوں کو تمام ٹھیکے دیے جارہے ہیں۔ظاہرہے کہ اس سے اردو کا کیا بھلا ہوگا نوراللہ جاوید کیا آپ اردو اکیڈ می کی موجودہ انتظامیہ کی کارکردگی سے مطمئن نہیں؟ اگر نہیں ہیں تو کیوں؟ سوال میر ے مطمئن ہونے یا نہیں ہونے کا سوال نہیں ہے۔در اصل اکیڈمی کی ممبری کیلئے سیاست دانوں کی چاپلوسی کرنی پڑے اور ایسے لوگوں کی ترجیح دی جائے جو وقت و ضرور ت کے حساب سے اپنا قبلہ تبدیل کرتے رہے ہیں تو پھر وہاں کارکردگی کا سوال کہاں سے پیدا ہوگا؟ جب چاپلوس اور خوشامدی طبقہ حاوی ہوجائے گا تو وہ اردو سے زیادہ سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔اردو اکیڈمی میں بھی ایسا ہی ہورہا ہے۔پوری ٹیم کی ترجیح صر ف دکھاوا، ہنگامہ آرائی، پوسٹر بازی، اشتہاربازی میں مصروف ہے۔اردو کا مستقبل پس پشت چلاگیا۔ نوراللہ جاوید یہ کمیٹی تو حکومت تشکیل دیتی ہے؟ شمیم احمد: نہیں،ناموں کی سفارش پارٹی کے مسلم لیڈر کرتے ہیں اور یہ لیڈران ایسے لوگوں کے ناموں کی سفارش کرتے ہیں جن کا اردو اور زبان سے کوئی سرو کار نہیں ہے؟ ایک بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو حکومت کام کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے؟ مگر یہ کام کرنے کے بجائے وزیراعلیٰ کو دھوکہ دے رہے ہیں اور ان کی حرکتوں سے حکومت بدنام ہورہی ہے۔آج اردوحلقے میں تشویش ہے، عوام سوال پوچھ رہے ہیں کہ 17کروڑ روپیہ کہاں جارہے ہیں، اسکولوں میں اساتذہ کی قلت، نصابی کتابیں وقت پر نہیں مل رہی ہیں، اردو کا معیار تیزی سے گررہا ہے۔اکیڈمی معیاری کتابوں کی اشاعت پر توجہ دینے کے بجائے اقربا پروری میں مبتلا ہے۔میں نے دس سالوں تک اردو کیلئے خاک چھانی ہے، محلہ، علاقہ اور کلکتہ کے اطراف و اکناف میں جاکر اردو کی بدحالی دیکھی ہے۔اس لیے مجھے سب سے زیادہ دکھ ہوتا ہے،میں حکومت کے صلے کا متمنی کبھی نہیں رہا اور نہ اس کیلئے لابی کیا۔میری تحریک کے ذریعہ کسی کو فائدہ ہی پہنچاہے مگر میں نے ذاتی طور پر فائدہ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی مگر اردو کو جان بوجھ کر بے آبروں کی جائے تو میری خاموشی جرم بن جائے گی اس لیے میں آواز بلندکرتا ہوں اور کرتا رہوں گا۔چاہے اس راہ میں کوئی آئے۔ نوراللہ جاوید ہندوستان کی آزادی کے بعد کلکتہ میں نئے مسلم ادارے قائم نہیں ہوئے؟ شمیم احمد در اصل ہندوستان کی آزادی کے بعد ہندوستانی مسلمان بالخصوص بنگال کے مسلمان حقیقی قیادت محروم ہوتے چلے گئے، سیاسی شعبدہ بازوں کو مسلمانوں نے اپنا قائد و رہنما بنالیاجنہیں اپنے مفادات عز یزتھے۔اس قیادت نے مسلم اداروں کو اپنی ناموری کا ذریعہ بنایا، شہرت حاصل کی، حکومتوں تک اپنی رسائی یقینی بنایا اور ووزیر اور ممبر اسمبلی اور ممبر پارلیمنٹ بن گئے۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی آزادی سے قبل مسلمانوں نے اس کسمپرسی کے دورمیں بھی اسلامیہ اسپتال، یتیم خانہ اسلامیہ، انجمن مفید الاسلام، مسلم انسٹی ٹیوٹ جیسے ادارے قائم کیے مگر صورت حال یہ ہے کہ اداروں ترقی کے بجائے تنزلی کے دور سے گزررہے ہیں۔آج اداروں پر قبضہ کرنے کی مہم چل رہی ہے مگر ان اداروں کو آگے بڑھانے، اس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے آواز کوئی نہیں بلند کررہاہے۔ نوراللہ جاوید کیا اس کیلئے مسلمانوں کی لاپرواہی کو آپ کتنا ذمہ دار سمجھتے ہیں؟ یقینا مسلمان اس کیلئے ذمہ دار ہیں، کیوں کہ ہم نے اپنے آباو اجداد کی وراثت اور اثاثہ کو سنبھالنے کے بجائے چند لوگوں کے ہاتھوں گروی رکھ دیا اور یہ آج یہ ادارے ان کے ہاتھو کٹھ پتلی بن چکا ہے۔آپ خود دیکھ لیجئے عالیہ یونیورسٹی، مسلم انسٹی ٹیوٹ اور اردو اکیڈمی جس محلے میں واقع ہے اس محلے کی صورت حال کیا ہے؟ گندگی کا انبار ہے؟ کیا کوئی عالمی و علمی شخصیت یہاں پر آسکتی ہے؟۔اس کیلئے ذمہ داری طے ہونی چاہیے؟ ہماری بے حسی یہ ہے کہ یہ پورامسلم علاقہ ہے اور یہ تاریخی بھی رہا ہے۔یہاں پر تاریخی شخصیتوں کا قیام رہا ہے مگر کوئی بھی اس کے خلا ف آواز بلند کرنے کو تیار نہیں ہے۔ نوراللہ جاوید ملی اداروں کے حوالے سے مسلمانوں کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ ملت کے ایک فرد کی ذمہ داری ہے کہ اپنے اداروں کی حفاظت کیلئے سنجیدہ ہوں، ان اداروں کے دروازے ہر خاص و عام کیلئے کھولاجائے، عام مسلم آبادی کو اس ادارے میں شامل کیا جائے اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو کوئی بھی ان اداروں کو لوٹ کھسوٹ کا ذریعہ نہیں بناپائے گا۔