HRPA STATE MEMBERS

A human reading a powerpoint presentation

human rights issues

شمیم احمد کی تحریک اردو اور موجودہ حالات


شمیم احمد کی تحریک اردو اور موجودہ حالات نوراللّٰہ جاوید بنگال میں ”اردو تحریک“کا باضابطہ آغاز 1980میں ہوا، دوسری سرکاری زبان کے درجے کیلئے 1981میں سابق وزیر اعلیٰ جیوتی باسو سے انجمن اردو ترقی کا ایک وفد جس میں پروفیسر عبدالمغنی،پروفیسر خلیق انجم،روزنامہ آزاد ہند کے سابق ایڈیٹراحمد سعید ملیح آبادی، کلکتہ کے مشہور صحافی مولانا احسن مفتاحی اور پروفیسر سلمان خورشید شامل تھے نے ملاقات کی۔وفد کے قائد پروفیسر عبد المغنی نے جیوتی باسو کے سامنے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کا مطالبہ پیش کیا تو باسو نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ ”3فیصد اردو آبادی کو 97فیصد آبادی والے زبان پر تھوپانہیں جاسکتا“۔ پروفیسر عبد المغنی اور باسو کے درمیان تیکھی بحث بھی ہوئی تاہم بعد میں جیوتی باسو نے 1961میں وزرائے اعلیٰ کانفرنس کی روداد اور فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے بنگال کے دس فیصد آبادی والے علاقے میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا دجہ دینے کا فیصلہ کیااور اس کیلئے نوٹی فیکشن بھی جاری کیا چوں کہ لنگویج ایکٹ میں تبدیل کرکے اسمبلی سے ترمیمی بل پاس نہیں کرایا گیا تھا اس لیے نوٹی فیکیشن بے معنی ہوگئی۔اس وقت سے لے کر 2012تک اردو کے حق کیلئے کئی تنظیمیں، ادارے میدان میں آئے اور اپنی اپنی توفیق و ہمت کے مطابق اردو کی لڑائی کو آگے بڑھایا۔اس جد وجہدمیں جن تین اہم شخصیات نے اہم کردار ادکیا ان میں ایک شخصیت پروفیسر سلمان خورشید کی ہے جس کی قیادت میں مغربی بنگال انجمن ترقی اردونے تحریک چلائی، میمورنڈم، جلسے جلوس اور پروگراموں کے ذریعہ بایاں محاذ حکومت کو جھنجھوڑنے کی بھرپور کوشش کی۔دوسری شخصیت پروفیسر حیدر حسن کاظمی کی ہے جن کی قیادت میں 90کی دہائی میں اردو تحریک سڑکوں پر آئی، طلباء اور عوام کا ایک بڑاطبقہ ان کے ساتھ سڑکوں پر اترا مگر جلد ہی وہ خاموش ہوگئے۔ اس کے بعد 2004میں قائد اردو شمیم احمد کی قیادت میں روایتی انداز سے ہٹ کر جارحانہ انداز میں ”اردو تحریک“ کا آغاز ہوا۔یہ تحریک کیا تھی دیوانوں کی مہم تھی، غیروں سے زیادہ اپنے تنقید کررہے تھے۔بنگلہ اوراردو کے درمیان جنگ کرانے کا الزام عاید کیا جانے لگا۔مگر دیوانوں کی ٹولی نے تنقیدوں کی پرواہ کیے بغیراردو کی جد وجہد کو کانفرنس، میمورنڈم اور بند کمرے سے نکال کر کلکتہ اور مغربی بنگال کی سڑکوں و گلیوں تک پہنچادیا۔اس تحریک سے ہرعام و خاص کو جوڑنے کیلئے شمیم احمد نے بنگال کی اردو آبادی کی خاک چھانی اور عوام کو مادری زبان کی اہمیت سے آگاہ کرایا۔بعد میں یہ تحریک اس قدر سخت ہوگئی کہ اس تحریک کے ذمہ داروں نے اردو اکیڈمی کے سامنے علامتی طور پرجوتا پالش کے پروگرام کا انعقاد کرکے دنیا کے سامنے احتجاج کا نہ صرف نیا طریقہ پیش کیا بلکہ یہ ثابت کردیا کہ اپنا حق حاصل کرنے کیلئے کچھ بھی کیا جاسکتا ہے۔اس کے بعد اس تحریک کے متوالوں نے سی پی ایم ہیڈ کوارٹر علیم اسٹریٹ جاکر بایاں محاذ کے چیرمین بمان باسو کے جوتے کی پالش کا اعلان کیا تو قائد سمیت کئی افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔بعدمیں یہ تحریک ایک قدم آگے بڑھ کر ”اردو نہیں تو ووٹ نہیں کا نعرہ بلند کیا“ جس کا خمیازہ بایاں محاذ حکومت کو 2009کے پارلیمانی انتخابات،2010میں کارپوریشن انتخابات اور 2011میں اسمبلی انتخابات کے بھگتنا پڑا۔ممتا بنرجی کی قیادت میں حکومت قائم ہونے کے بعد یہ تحریک خاموش نہیں ہوئی اور یہ اعلان کیا کہ جب تک اسمبلی سے لنگویج ایکٹ میں تبدیل کرکے بل پاس اور گورنر کے دستخط نہیں ہوجاتے ہیں تو یہ تحریک جاری رہے گی۔کمیونسٹ لیڈروں کا الزام تھا کہ شمیم احمد کی قیادت والی اردو تحریک کے پیچھے ممتا بنرجی کا ہاتھ ہے مگر 2011سے 2012تک یہ تحریک جاری رکھ کراپنے اوپر لگنے والے تمام الزامات مسترد کردیا۔اس طویل تمہیدی گفتگو کا مقصد یہ تھا ہمیں یہ بات ذہن نشیں رہنی چاہیے کہ بنگال میں اردو کو جو حقوق ملے ہیں وہ کئی سالوں کی جد و جہد اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ چناں چہمئی 2011میں بایاں محاذ کی 34سالہ دور حکومت کے خاتمے کے بعد ممتا بنرجی نے اپنی حکومت کے پہلے ہی مہینے میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کا اعلان کیا اوریہ یقین دلایا کہ آزادی کے بعد سے اب تک اردو کے ساتھ جاری نا انصافی کا اب خاتمہ ہوگا۔وزیر اعلیٰ نے نہ صرف اسمبلی سے لنگویج ایکٹ میں تبدیل کرکے اردو کی دس فیصد آبادی والے علاقوں میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیدیا بلکہ اردو اکیڈمی جس کا سالانہ بجٹ پہلے چند لاکھ روپے تھااور فنڈ کی قلت کی وجہ سے بڑے پروگرام نہیں ہوتے تھے اس میں صد فیصد اضافہ کرتے ہوئے پہلے سالانہ فنڈ8کروڑ روپے کردیا گیا جو اب اضافہ ہو کر 13کروڑ روپے ہوچکا ہے۔ ظاہر ہے کہ نئی حکومت کے اس اقدامات پر شادیانہ بجنے لازمی تھے اور بجے بھی اور واہ واہی بھی خوف ہوئی۔مگر سوال یہ ہے کہ گزشتہ 7سالوں میں بنگال میں اردو کی ترویج و ترقی کس قدر ہوئی؟، اردو اسکولوں میں خالی اساتذہ کی سیٹوں کو بھرا گیا یا نہیں؟، کتنے اداروں میں اردو ٹرانسپلیٹروں کی بحالی ہوئی یا نہیں؟اور اردو اکیڈمی کو گزشتہ سات سالوں میں ملنے والے کم وبیش70کروڑ روپے سے کیا حاصل ہوا؟ ان سوالات کے جوابات حاصل کیے بغیربنگال میں اردو کی ترقی و تنزلی کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ مسلمانوں سے متعلق ایک مفکر کا یہ قول صد فیصد صحیح ثابت ہوتا ہے کہ”مسئلہ یہ نہیں ہے کہ مسلمان خرگوش کی چال بھول گئے ہیں بلکہ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے کچھوا کی چال بھی چلنی چھوڑ دی ہے“۔اردو کے ساتھ بھی صورت حال یہی ہے کہ اہل اردو نے کچھوا کی چال چلنی چھوڑ دی ہے۔پہلے حق کی جوآوازیں بلند ہوتی تھیں وہ مصلحت کے نام پر خاموش ہوچکی ہیں اسی کانتیجہ ہے کہ حکومت کے اتنے سارے اقدامات کے باوجود اردو کی حالت میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔بزدلی و کم ہمتی کا اندازہ لگانا ہو تو اکیڈمی کے ممبروں سے نجی ملاقات کرکے دیکھ لیجئے سب کے سب شکایتوں کا انبار لگادیں گے۔ مگر جب ان سے یہ درخواست کیجئے کہ وہ اس کے خلاف آواز کیوں نہیں بلند کررہے ہیں تو وہ فوری طور پر راہ فرار اختیار کرتے ہوئے حالات سازگار نہیں ہونے کا حوالے دینے لگتے ہیں۔نجی ملاقات میں ہونے والی گفتگوبھی آپ ملاحظہ کرلیں جس کے اندازہ لگانا آسان ہوجائے گا کہ اردو کے نام پر گزشتہ سات سالوں میں کس قدر بندر بانٹ کا سلسلہ جاری ہے۔”ایک ممبر نے بتایا کہ 2012-2013- اور 2014 کے اردو کتاب میلہ پر 8سے 9لاکھ روپے خرچ ہوتے تھے۔مگر اس کے اگلے سال یعنی 2015 میں یہ خرچ بڑھ کر 30لاکھ اور 2016میں یہ خرچ 60لاکھ کے قریب پہنچ گیا۔جب کہ کوئی بھی قابل ذکر پروگرام کا اضافہ نہیں کیا گیا۔2016میں ہر دن کتاب میلہ کے شرکاء کو ایک لیپ ٹاپ دیا گیا اگر 40ہزار روپیہ کی قیمت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اس پر 4لاکھ روپیہ صرفہ آتاہے۔اسی طرح ایک ممبر نے بتایا کہ کئی کوچنگ کلاسیس فرضی طور پر چل رہے ہیں۔جانچ میں ثابت ہونے کے بعد عارضی طور پراس کو روک دیا گیا مگر پھر پارٹی کاحوالہ دے کر یہ تمام فرضی کوچنگ کلاسیس شروع ہوگئے۔اس طرح کے سنگین معاملے میں ممبران کو اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے مگر مصلحت،سیاسی قربت اور اپنی ممبری کو بچانے کیلئے اردو کے کاز کی قربانی دیدی گئی۔ راشٹریہ سہار ا کی خبر کے ذریعہ جو معاملہ سامنے آیا ہے وہ یہ بتاتا ہے کہ اردو اکیڈمی کے پاس اردو کی ترویج و ترقی کیلئے کوئی ٹھوس و مستقل لائحہ عمل نہیں ہے۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ مسلم انسٹی ٹیوٹ جس کے ذمہ دار یہ دعویٰ کرتے ہوئے نہیں تھکتے کہ وہ انسی ٹیو ٹ کو علم و فن کا مرکز بنائیں گے مگر وہ بھی مشاعرہ، غزل خوانی جیسے پروگرام پر ایک کروڑ روپے صرف کرنے کے گناہ میں شامل ہوچکی ہے۔اکیڈمی کی سات سالہ کاکردگی کا جائزہ لیں تو اس کے کھاتے میں مشاعرہ، موسیقی اور ڈرامے کے علاوہ کچھ خاص نہیں ہے۔پورے سات سال میں صرف دو بڑے سیمینار ہوئے، کوچنگ کا سلسلہ کبھی شروع ہوا تو کبھی بند، مغربی بنگال سروس کمیشن کی کوچنگ کا نظام بھی ٹھپ ہوچکا ہے، اسی طرح سلطان احمد مرحوم نے اردو میڈیم کے طلباء کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ و جامعہ ہمدرد میں داخلہ کرانے کیلئے کوچنک کرانے کی جو پہل کی تھی اس کو بھی ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا ہے۔اکیڈمی کی لاپرواہی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ مونوگراف جو تقریباً76صفحات پر مشتمل ہوتے ہیں کے لکھنے والے کو اردو اکیڈمی پانچ ہزار روپے سے زیادہ دینے پر رضامند نہیں ہے مگر ایک متشاعر جن کی شعرو ادب کی دنیا میں کوئی خاص مقام نہیں ہے کہ انہیں سال میں کئی مرتبہ مدعو کرکے مشاعرے کی فیس کے طور پر دو لاکھ روپے، اس کے علاوہ کرایہ اور تھری اسٹار ہوٹل کا خرچ برداشت کیا جاتا ہے۔اکیڈمی کے ایک ممبر نے بتایا کہ کتاب میلہ میں تمثیلی مشاعرہ کیلئے ایک ممبر کو 70ہزار روپے دیے گئے جنہوں نے اپنے بھائیوں اور اپنے تعلیمی ادارے کے اسٹاف کے ذریعہ یہ منعقد کیا۔ممبر نے بتایا کہ میلہ کے انتظامات سے لے کر دیگر تمام کاموں کی ذمہ داری صرف ایک قریبی دوست کو دیا گیا اور ان کے وارے نیار ہوگئے اور شنید ہے کہ مسلم انسٹی ٹیوٹ کی تجدید کاری جو مجوزہ منصوبہ جس کیلئے فنڈ اکیڈمی سے حاصل کیاجارہا ہے کہ کی بھی ذمہ داری انہی صاحب کو دی گئی ہے۔ کہانی بہت ہی طویل ہے۔ کس کس بات کا رونا رویا جائے اور کس کس کا نہیں؟ در اصل اردو کی سب سے بڑی بدنصیبی یہ رہی کہ گزشتہ سات سالوں میں اردو کی ترویج و ترقی کی ذمہ داری ان لوگوں دی گئی جنہوں نے کبھی بھی اپنی مادری زبان کے تحفظ کیلئے کچھ نہیں کیا،تعلقات،دوستی اور قرابت داری، پارٹی کی وفاداری اور حاشیہ برداری کی بنیاد پریہ لوگ ممبر اور ذمہ دار بن گئے۔چند ممبران کو چھوڑ کر زیادہ تر حاشیائی کردار ادا کرنے والے ہیں۔وہ لوگ جنہوں نے اردو کے کاز کو بلند کیا اور اردو کی لڑائی لڑی تھی وہ پس پشت رکھ دیے گئے کیوں کہ وہ حاشیہ برداری کے ہنر سے ناواقف تھے۔مگر اس سے بڑی بات یہ ہے کہ عام افراد بھی خاموشی اختیار کرلی۔ جب کہ اردو اکیڈمی کو سالانہ 13کروڑ روپیہ کا فنڈ دے کر کوئی احسان نہیں کیا گیا ہے بلکہ یہ ہمارا حق ہے اور ہمارے ہی ٹیکس کے پیسے ہیں۔ایسے میں اگر ہم خاموش ہیں تو ہم بھی کم مجرم نہیں ہیں۔