HRPA STATE MEMBERS

A human reading a powerpoint presentation

human rights issues

شمیم احمد کی ’ نوائے عاشقانہ ‘ کوملا ساتھ دلوں کو فتح کرنے کی دوسری مہم ’ سب کو کھانا‘


...................................................................................شیخ ضیاءالدین ‘ کولکاتا چشم فلک نے ایسے کم ہی لوگوں کو دیکھا ہوگا جن کی گفتگو اور تقریر کا اثر یکساں طور پر مسلمانو ں کے ساتھ ساتھ برادران وطن پر بھی ہوتا ہو ان ہی کم لوگوں میں سے ایک قائد اردو شمیم احمد ہیں ‘ جو گزشتہ 14جنوری کو قومی یکجہتی کے سلسلے میں منعقد ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کچھ اس طرح سخن طراز ہوئے کہ برادران وطن نے آنسوﺅں اور سسکیوں کے ساتھ ان کی باتیں براہ راست دل میں اتارلیں ۔ قائد اردو شمیم احمد کا یہ جلسہ 14جنوری کی برفاب رات میں مہاراشٹر کے لاتوڑ میں ہورہاتھا ۔ ایک جانب سرد فضا ماحول کو شبنم آلود کررہی تھی تو دوسری جانب شمیم احمد کی باتیں لوگوں کی پلکیں بھگورہی تھیں ۔ شمیم احمد نے قومی یکجہتی کے اس جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی کا نصب العین فرقہ وارانہ اتحاد کے ساتھ ہندستان کوترقی کی راہ پر گامزن رکھنا ہے۔ اپنے اس کاز کیلئے انہوں نے کبھی مصلحت کی چادر نہیں اوڑھی ‘ راستہ میں آنے والی دشواریوں اور کٹھنائیوں کے کانٹوں کو اپنی پلکوں سے ہٹاتے ہوئے راستہ بناتے رہے ۔یہی وجہ ہے کہ انہیں ہر محاذ پر لوگوں کا ساتھ ملا ۔بغیر کسی مذہبی ‘ نسلی اور لسانی امتیاز کے انہوں نے ضرورت مندوں کی دست گیری کی ‘ حق کی آواز اٹھائی ہے یہی آواز حق ہٹانے کی پاداش میں مغربی بنگال کی بایاں محاذ حکومت نے انہیں پابندسلاسل بھی کیا لیکن عوام اورحق پسندوں کی دعاﺅں نے بایاں محاذ حکومت کی طنابیں کھینچنے میں ان کا ساتھ دیا اور دنیا نے دیکھ لیا کہ شمیم احمد کی آواز حق نے بایاں محاذ کے ایوا ن اقتدار کو زمین بوس کردیا۔ ہیومن رائٹس لاتوڑ ضلع کی جانب سے منعقد ہونے والے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے شمیم احمد نے کہا کہ آج پورے بھارت کو گیروا چادر میں لپیٹنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ملک کی فضا جارحانہ قوم پرستی کے نعروں اور نفرت کی سیاست سے بوجھل ہے۔ یہ ملک سے محبت کی نہیں سیاسی نظریات کی جنگ ہے۔ بھارت کے سیکولر کردار کو گہن لگ گیاہے۔ وہ سیکولر کردار‘ جو بھارت کے ماتھے کا جھومر ہے ‘ جس کی وجہ سے بھارت پوری دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اندیشوں کی گھٹا ٹوپ تاریکی میں کھو گیا۔ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تاریکی مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔ کسی بھی ملک کےلئے یہ ایک سنگین صورت حال ہوتی ہے جب معاشرے کے کچھ طبقوں کو ’محب وطن‘ اور کچھ کو ’ملک دشمن‘ قرار دیا جانے لگے۔لیکن ملک کے عوام یہ نہیں چاہتے کہ بھارت میں پھر1947جیسے حالات پیدا ہوں۔اس لئے ہماری فرقہ وارانہ اتحاد اور یک جہتی کی مہم جاری ہے ۔ شمیم احمد نے کہا کہ وہ لاتوڑ آنے سے قبل قومی راجدھانی دہلی میںتھے جہاں انہوں نے دانشوروں ‘ سماجی رہنماﺅں‘ صحافیوں اور دوسرے افراد سے اس سلسلے میں بات چیت کی اور انہیں پتہ چلا کہ تمام لوگ فرقہ وارانہ اتحاد کے حامی ہیں کوئی نہیں چاہتا کہ ملک کے حالات خراب ہوں ‘ بھارت کے ہندو مسلم ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں لیکن کچھ طاقتیں اپنے اقتدار کیلئے اس کی سازش رچ رہی ہیں ۔ہم اس سازش کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے اس کیلئے چاہے ہمیں اپنی زندگی ہی کی کیوں نہ نچھاور کرنی پڑے ۔شمیم احمد نے کہا کہ وہ ایک ایسا بھارت چاہتے ہیں جہاں مندر جلے تو مسلمانوں کو بھی رنج ہواور مسجد کی آبروکی فکر مندر کے نگہبانوں کو ہو ۔اپنے اس مقصد کی تکمیل کیلئے وہ اپنی آخری سانس تک لڑائی جاری رکھیں گے ۔ شمیم احمد کی تقریر نے مجمع پر کافی دیر تک سناٹاطاری کردیا اور یہ سناٹاجلسہ گاہ کی پچھلی صف میں بیٹھے لوگوں کی سسکیوں اور آہوں سے ٹوٹا ۔ ان لوگوں سے جب بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ شمیم احمد کی یہ باتیں ان کے اپنے دل کی آواز ہیں آج شمیم احمد نے اپنی باتوں سے ان کے اندر جلتی وطن دوستی کی آگ کو ہوادے دی ہے ‘ انہیں حوصلہ دیا ہے اور وہ اب ملکی اتحاد کیلئے اپنا تن من دھن نچھاور کرنے کو تیار ہیں ۔ صبح3بجے ختم ہونے والے لاتوڑ کے اس جلسہ میں اعظم پاشاپٹھان‘ ولایت علی شیخ‘ نورپاشاپٹھان‘ نشی کانت پوار‘ نوناتھ آنند راﺅبرادھ پورے‘ رابندر بلونت کلکرجی‘ شیوراج پاٹل ‘ گوووند جاجو‘ بالاجی شنڈے ’ اویناش قدم‘ سدا نند ہیمنت مولے‘ مہاویر لنداگ‘ ہنس راج مورے ‘ شامد کھوندے اور کرن کامبلے نیز سیکڑوں کی تعداد میں خواتین‘ بوڑھے اور جوان موجودتھے۔ اگلی صبح قائد اردو شمیم احمد اپنے دورہ کے تیسر ے پڑاﺅ پر عثمان آباد پہنچے جہاں انہوں نے ادارہ کے لوگوں سے ملاقات کی اور قومی ہم آہنگی تحریک کے سلسلے میں اپنے افکار و خیالات سے ان کی رہنمائی فرمائی ۔ اسی دن شام کو شمیم احمد مہاراشٹر کے پونا پہنچے اور ایک جلسہ کو خطاب کیا ہے ۔ واپسی میں آندھرا پردیش کی راجدھانی اور تہذیبوں کے امین شہر حیدرآباد میں قیام کیا اور وہاں کے سربرآورد ہ لوگوں سے ملاقات کی ۔ بنگال میں جاری کی اپنی تعلیمی تحریک اور یونیورسٹی کی تعمیر کے پیش رفت سے انہیں واقف کرانے کے ساتھ ساتھ صحت مند معاشرہ کیلئے تعلیم اور تہذیب کے موضوع پر پر مغز خطاب کیا ۔اپنے خطاب میں انہوں نے بنگال میں چلائی گئی اردو تحریک کے تجربات بھی بیان کئے ۔ قائد اردو شمیم احمد نے زبان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قوموںپر برے وقت آتے رہے ہیں لیکن جب یہ کسی سازش کے تحت لائے جاتے ہیں توسب سے پہلے اس قوم کی زبان کے خلاف سازش کی جاتی ہے کیونکہ زبان قوموں کی تہذیب وتمدن کی امین ہوتی ہے۔ بھارت میںآزادی کے بعد شروع کی گئی یہ سازش حکومت کے سائے میں پروان چڑھی اور اردو کو دیس نکالا دیئے جانے کامنصوبہ بننے لگا ۔ تب انہوں نے محسوس کیا کہ یہ وقت ایسا نہیں ہے کہ گھر میں بیٹھارہا جائے اور احتجاجی بیانات دیئے جائیں بلکہ یہ اٹھ بیٹھنے‘ کمر کسنے اور کچھ کر گزرنے کا وقت ہے تب انہوں نے ہر مصلحت اورضرورت کو بالائے طاق رکھ دیا اور اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیئے جانے کی تحریک کا بنگال سے آغاز کیا ۔ شمیم احمد نے بتایا کہ وہ اپنی تمام تر بے مائیگی کے باوجود صرف اللہ کے بھروسے نکل کھڑے ہوئے ۔گلی گلی‘ کوچے کوچے پیدل چل کر اردو والوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کی مہم شروع کردی۔ اس مہم میں انہیں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔دشمنوں کی سازش کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ا نہیں دوستوں کے طعنے بھی سہنے پڑے لیکن ان کا حوصلہ پست نہیں ہوا ‘ نخل آرزو کوا نہوں نے مرجھانے نہیں دیا اور تحریک میں مسلسل مصروف جدوجہد رہے ۔اردو کے نام پر نہ صرف گلیوں اور سڑکوں کی خاک چھانی بلکہ لوگوں کے جوتے بھی پالش کئے اور حکومت وقت کو یہ باور کرا دیا کہ اردو کے دیوانے اپنا حق لینے کےلئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔اس کا نتیجہ ان کی امید کے مطابق آیا اور بنگال کی نئی بننے والی ترنمول حکومت نے ریاست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا ۔ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے قائد اردو شمیم احمد نے کہا کہ اردوتحریک کی کامیابی نے ان کے حوصلوں کو پر لگادیئے اور اب وہ ایک ایسے سفر پرنکل کھڑے ہوئے ہیں جس کی ہر منزل دوسرے سفر کی ابتدا ہوتی ہے ۔ میٹنگ میں اپنی موجودہ مہم ’ قومی یک جہتی ‘ پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے یوم جموریہ 2018 سے کولکاتامیں شروع کی جانے والی ’سب کو کھانا‘ مہم کی بابت تفصیل سے لوگوںکو روشناش کرایا ۔ انہوں نے کہا کہ کولکاتا میں ایسے سیکڑوں افراد ہیں جو رات کو بھوکے سو جاتے ہیں کچھ توایسے ہوتے ہیں جو مانگ کر اپنی بھوک مٹالیتے ہیں لیکن درجنوں ایسے غریب ہوتے ہیں جن کی غیرت یہ گوارہ نہیں کرتی کہ وہ اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے لوگوں سے روٹی مانگیں ۔ایسے لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ہے ۔اس موقع پر انہوں نے ایک واقعہ کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ ایک رات وہ کولکاتا کی ایک معروف سڑک سے گزر رہے تھے جس کے مقابل ارکان قانون سازیہ کی محل نما اقامت گاہیں ہیں‘ اسی سڑک پر انہوں نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جو رات کے سناٹے میں سردی سے ٹھٹھرہاتھا ۔انہوں نے اپنی گاڑی رکوائی ‘ اترے اور اپنے کندھے پر پڑا شال اتار کربوڑھے شخص کو اوڑھادیا۔ اس بوڑھے سے انہوں نے پوچھا کہ بابا آپ نے کھانا کھایا ہے تو اس نے جواب دیا نہیں ‘ یہ جواب سن کر وہ کانپ اٹھے‘ انہیں لگا کہ وہ اس بوڑھے کے مجرم ہیں ۔ایک ایسابوڑھا جو اس ٹھنڈی رات میں کپکپاتے بدن اور بھوکے پیٹ شہر کی سڑک پر پڑا ہوا ہے‘ اس کے اس حال کا ذمہ دار وہ خود کو بھی محسوس کرنے لگے اور فوراً اپنے ڈرائیورعابدرضا کو کھانا لانے کیلئے بھیج دیا ۔ اس بیچ وہ اس بوڑھے سے بات کرتے رہے تھے انہیں پتہ چلا کہ ایم ایل اے ہاسٹل کے سامنے فٹ پاتھ پر پڑا یہ بوڑھا ایسی کئی بھوکی راتیں گزار چکا ہے ۔ بہرحال ان کا ڈرائیور کھانا لایا اور انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اس بوڑھے کو کھلایا اور گھر واپس آئے ۔ اس واقعہ نے ان پر اتنا شدید اثر کیا کہ وہ پوری رات سو نہیں پائے ۔اس غم انگیز واقعہ کا تذکرہ انہوں نے اپنے ایک تاجر دوست شمشیرخان سے کیا اور باہمی مشاورت کے بعدا یک فیصلہ پر پہنچے کہ اب ان کی زندگی میں ان کے آس پاس کا کوئی شخص بھوکا نہیں سوئے گا ۔اس کیلئے انہوں نے اپنے دوستوں کی ایک ٹیم بنائی جس میں ہندو مسلم سب شامل ہیں ۔اس ٹیم نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ بلا امتیاز مذہب و ملت ’ سب کو کھانا ‘ مہم شروع کریں گے جس کے تحت رات کے وقت کھانے سے لدی ایک گاڑی شہر کولکاتا کی گلیوں ‘ محلوں ‘ سڑکوں سے گزرے گی اور وہاں رہنے والے ہر بھوکے شخص کو کھانا کھلائے گی ۔اس کیلئے ہندو ‘ مسلم ‘ سکھ ‘ عیسائی‘ عورت‘ مرد کی کوئی قید نہیں ہوگی ۔جو بھوکا ہوگا اسے کھانا کھلانا ہی اصل مقصد ہوگا ۔شمیم احمد نے بتایا کہ اس مہم کی تیاری شروع کردی گئی ہے اور پہلے مرحلے کے تحت 3.5لاکھ روپئے میں ایک چار پہیہ گاڑی خریدی گئی ہے جس میں ضرورت کے مطابق ترمیم کا عمل جاری ہے‘ گاڑی تیار ہوجانے کے بعد یوم جمہوریہ26جنوری 2018کی رات سے وہ اپنی اس مہم کا آغاز کردیں گے ۔ اس سوال کے جواب میں کہ ’ سب کو کھانا ‘ مہم میں وہی ایک واقعہ ہے یا کوئی اور بھی واقعہ ان کی اس مہم کوانگیخت کرنے کا سبب بنا ہے ۔ شمیم احمد نے بتایا کہ اس بوڑھے شخص کو کھانا کھلانے کے بعد وہ کئی رات صحیح سے سونہیں پائے تھے اسی دوران انہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ایک واقعہ بھی یادآیا جس میں ایک روز کھانے کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مہمان کی تلاش شروع کی تو ایک اجنبی آدمی ملا جب وہ کھانے پر بیٹھا تو ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ بسم اللہ کہو‘ اس نے کہا کہ میں جانتا نہیں اللہ کون اور کیا ہے؟ ابراہیم علیہ السلام نے اس کو دستر خوان سے اٹھا دیا‘ جب وہ باہر چلا گیا تو جبریل امین آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ’ ہم نے تو اس کے کفر کے باوجود ساری عمر اس کو رزق دیا اور آپ نے ایک لقمہ دینے میں بھی بخل کیا‘ یہ سنتے ہی ابراہیم علیہ السلام اس کے پیچھے دوڑے اور اس کو واپس بلایا‘ اس نے کہا کہ جب تک آپ اس کی وجہ نہ بتلائیں کہ پہلے کیوں مجھے نکالا تھا اور اب پھر کیوں بلا رہے ہیں میں اس وقت تک آپ کے ساتھ نہ جاو ¿ں گا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے واقعہ بتلا دیا تو یہی واقعہ اس کے مسلمان ہونے کا سبب بن گیا، اس نے کہا کہ وہ رب جس نے یہ حکم بھیجا ہے بڑا کریم ہے میں اس پر ایمان لاتا ہوں، پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ گیا اور مومن ہو کر باقاعدہ بسم اللہ پڑھ کر کھانا کھایا۔“ یہ واقعہ سنانے کے بعدشمیم احمد نے کہا کہ یہ واقعہ بھی ان کی اس مہم کے آغاز کا ایک سبب ہے ۔وہ سمجھتے ہیں کہ جو اللہ پوری کائنات کی بھوک مٹارہاہے ان کی مدد ضرورکرے گا اور اللہ کے ہی دیئے ہوئے اس رزق کو وہ اس کے ضرورت مند بندوں تک پہنچائیں گے اس کیلئے مذہب کی کوئی قید نہیں ہے ۔ میٹنگ میں موجود لوگوں کے تاثرات اور ستائش پر انہوں نے کہا کہ یہ فقط اللہ کی رحمت ہے ۔ان کے پاس جذبہ صادق کے سوا کچھ نہیں ہے اور یہ اللہ رب العزت کاکرم ہی ہے کہ اس نے اس جذبہ کو اظہار کا جامہ پہنادیاہے ۔ان کی اس نوائے عاشقانہ کو شمشیرخان اور دوسرے لوگوں کا ساتھ بھی مل گیا ہے ۔ وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ جو دلوں کو فتح کر لے‘ وہی فاتح زمانہ