HRPA STATE MEMBERS

A human reading a powerpoint presentation

human rights issues

HUMAN RIGHTS PROTECTION ASSOCIATION KI 'SABKO KHANA ' FOOTPATH PAR REHNE WALO KELIYE NEMAT # SHAMIM AHMED


کلکتہ۔ کلکتہ شہر کے فٹ پاتھ پر رہنے والے سیکڑوں افراد کیلئے ہیومن رائٹس پروٹیکشن ایسوسی ایشن کی ’’سب کو کھانا‘‘مہم کسی نعمت مترقبہ سے کم نہیں ہے ۔سیکڑوں افراد روزانہ اس مہم سے نہ صرف فیض یاب ہورہے ہیں بلکہ فٹ پاتھ پر رہنے والوں کو روزانہ ہیومن رائٹس کی گاڑی کا انتظار رہتا ہے کہ اب گاڑی آئے گی اور انہیں کھانا دے گی۔ خیال رہے کہ غذائی تحفظ ایکٹ جیسے قانون کے نفاذ کے باوجود ہندوستان میں بھوک مری ایک بہت بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے ۔ گلوبل ہینگر انڈیکس کے مطابق 119ممالک میں ہندوستان کا 100واں رینک ہے ۔ شمالی کوریا ، بنگلہ دیش اور عراق سے بھی ہندوستان نیچے ہے، صرف پاکستان سے اوپر ہے۔ جب کہ 2016میں ہندوستان کا 97ویں رینک تھا۔ پڑوسی ممالک میں چین کا 29، نیپال کا 72، میانمار کا 77،سری لنکا کا 84اور بنگلہ دیش کا 88 رینک ہے ۔جب کہ پاکستان کا 106اور افغانستان کا 107رینک ہے۔2015-16میں 21فیصد بچے غذائی قلت سے جوجھ رہے تھے ۔ کلکتہ شہر کے مرکزی علاقہ نیومارکیٹ میں فٹ پاتھ پر اپنی زندگی بسر کرنے والے ایک کنبہ نے بتایا کہ مستقل رہائش نہیں ہونے کی وجہ سے کوئی بھی انہیں گھر میں کام کرنے کیلئے موقع نہیں دیتا ہے ۔ ایسے میں ان کیلئے ہردن شام میں کھانے کا پیکٹ بہت ہی راحت کا سامان ہوتا ہے ۔اب یہ فکر نہیں رہتی ہے کہ بچوں کو بھوکے سونے پڑیں گے ۔ مایادیوی (نام تبدیل کردیا گیا) نے بتایا کہ نیومارکیٹ میں کلکتہ کارپوریشن کے ہیڈکوارٹر کے قریب ان کا کنبہ روڈ پر ہی ترپال لگا کر کئی سالوں سے زندگی بسر کررہا ہے ۔چوں کہ ان کے پاس کوئی بھی رہائشی دستاویز نہیں ہے اس لیے کوئی بھی سرکاری اسکیم انہیں نہیں ملتی ہے ۔مایا دیوی کے دو بچے ہیں ۔شوہر کے پاس بھی روزگار نہیں ہے ۔نشہ کی لت ہے ۔موچی کا کام کرتا تھا مگر اب نشہ کی لت کی وجہ سے وہ کام بھی نہیں کرسکتا ہے ۔ سیکڑوں افراد روزانہ اس مہم سے نہ صرف فیض یاب ہورہے ہیں بلکہ فٹ پاتھ پر رہنے والوں کو روزانہ ہیومن رائٹس کی گاڑی کا انتظار رہتا ہے کہ اب گاڑی آئے گی اور انہیں کھانا دے گی۔ : فوٹو، یو این آئی۔ اس نے بتایا کہ دو بچوں کی پرورش کرنا مشکل ہوتا ہے۔ مایا دیوی نے بتایا کہ ہردن شام پانچ بجے کے قریب ایک گاڑی آتی ہے اور گھر کے ہرایک فرد کیلئے کھانے کا پیکٹ جس میں چاول اور سبزی ہوتی ہے دے کر چلی جاتی ہے ۔ ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی یہ گاڑی کہاں سے آتی ہے ۔ خیال رہے کہ فٹ پاتھ پر رہنے والوں میں بیشتر افراد مقامی سطح پر ووٹر نہیں ہوتے ہیں ۔ اس لیے حکومت بھی اور مقامی نمائندے ان کی بازآبادکاری کی طرف توجہ نہیں دیتے ہیں ۔ ہیومن رائٹس پروٹیکشن ایسوسی ایشن نے اس سال فروری سے ہردن فٹ پاتھ پر سونے والے 400افراد کو گاڑی سے پہنچا کر کھانا فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔ ہیومن رائٹس پروٹیکشن ایسوسی ایشن کے صدر شمیم احمد نے اس مہم کے مقصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حقوق انسانی کے تحفظ کیلئے سرگرم کارکنان پر یہ الزام لگتا رہتا ہے کہ یہ لوگ عملی اقدامات نہیں کرتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ بھکمری، غذائی قلت ،علاج کی فراہمی پر سمینار اور پروگرام کے انعقاد سے مسائل حل نہیں ہوسکتے ہیں۔ اس کیلئے عملی اقدامات کرنے پڑتے ہیں ۔ اس لیے ہم نے ہیومن رائٹس پروٹیکشن ایسوسی ایشن کے بینر تلے اپنی وسعت کے مطابق اس مہم کی شروعات کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کلکتہ شہر میں ایک بڑی تعداد فٹ پاتھ پر رہنے والوں کی ہے ۔ مین اسٹریم سے وابستہ نہیں ہونے کی وجہ سے یہ طبقہ روزگار سے بھی نہیں جڑ پاتا ہے ۔ بے روزگاری انہیں نشہ کا سہارا لینے پر مجبورکردیتی ہے۔ سماج کے اس دبے کچلے افراد کی بازآبادکاری کی طرف کوئی بھی حکومت توجہ نہیں دیتی ہے ۔ شمیم احمد نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی شخص رات میں بھوکا نہ سوئے ۔فوٹو، یو این آئی۔ شمیم احمد نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی شخص رات میں بھوکا نہ سوئے ۔انہوں نے بتایا کہ روزانہ ایک پیکٹ 7.500گرام چاول اور سبزی ایک پیکٹ ہوتی ہے ۔ ہیومن رائٹس پروٹیکشن ایسوسی ایشن کی گاڑی روزانہ شام پانچ کے قریب کلکتہ شہر کے مختلف علاقوں میں گھوم گھوم کر فٹ پاتھ پر سونے والوں کو کھانا فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہردن الگ سبزی دیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کئی ایسے پریوار ہیں جنہیں روزانہ ہماری گاڑی کا انتظار رہتا ہے۔ #مغربی بنگال#کولکاتہ#کھانا#ہیومن رائٹس پروٹیکشن ایسوسی ایش