HRPA STATE MEMBERS

A human reading a powerpoint presentation

human rights issues

عیدکےدن بھی سینکڑوں بھوکوں کا پیٹ بھر کر شمیم احمد نے انسانیت کی نئی مثال پیش کی


عیدکےدن بھی سینکڑوں بھوکوں کا پیٹ بھر کر شمیم احمد نے انسانیت کی نئی مثال پیش کی عیدکےدن بھی سینکڑوں بھوکوں کا پیٹ بھر کر شمیم احمد نے انسانیت کی نئی مثال پیش کی حالاتِ بنگال نیوز کولکاتا: عام طور پر عیدالفطر اور دیگر تہواروں کے دن ہم سب اپنے گھروں میں اپنے اہلِ خانہ وعزیزواقارب کے ساتھ خوشیاں بانٹ رہے ہوتے ہیں لیکن چند ایسے انسان بھی ہوتے ہیں جنکا حقیقی نصب العین صرف اور صرف خدمت خلق ہیں اور انہی چند گنے چنے افراد میں شامل ہیں “قائدِ اردو”کے نام سے مشہور شمیم احمد۔ یہ وہ شمیم احمد جنہوں نے برسوں قبل اردوزبان کیلئے ایک ناقابلِ فراموش تحریک چلائی تھی اور آج یہی شمیم بھوکوں کاپیٹ بھرنے کاکام کررہے ہیں اور اس کام کے تئیں ان میں کتنا لگن ہے کہ وہ عید کی خوشیاں اپنے گھروالوں کے ساتھ منانے کے بجائے سینکڑوں بھوکوں کا پیٹ بھر کر منارہے ہیں۔عیدکے پر مسرت موقع پر جہاں پوری دنیا خوشی اور انبساط سے سرشار اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ مگن تھی وہیں ’ سب کو کھانا‘ مہم چلانے والے قائد اردو شمیم احمد ضرور ت مندوں کے درمیان عید کی خوشیاں بانٹ رہے تھے ۔انٹرنیشنل ہیومن رائٹس پروٹیکشن ایسو سی ایشن کے بینر تلے گزشتہ چار مہینہ سے ضرورت مندوں کے دروازہ تک جاکر بلا ناغہ رات کا کھانا تقسیم کرنے والے شمیم احمد نے عید کے دن16جون ہفتہ کو چلچلاتی دھوپ میں دوپہر کا کھانا تقسیم کیا۔ تہوار کی نسبت سے کھانے کے ساتھ سوئیاں بھی تقسیم کی گئیں جسے شمیم احمدنے خود اپنے ہاتھوں سے تقسیم کیا ۔ دوپہر12بجے کھانے سے لدی ان کی گاڑی شہر کے مختلف سڑکوں سے گزری اور وہاں ضرورت مندوں میں خودشمیم احمد نے کھاناتقسیم کیا۔ایک سوال کے جواب میں شمیم احمد نے بتایا کہ عید کیلئے انہوں نے ویج پلاﺅ‘ سلاد اور شیرخورمہ بنایاتھاجسے لے کر ضرورت مندوں تک پہنچے اورا ن کے ساتھ عید منایا۔ گزرے رمضان میں جب لوگ اپنے اپنے اہلِ خاندان کےلئے افطاری سحری اور عید کے کپڑوں کےلئے بازار در بازار مارے مارے پھر رہے تھے شمیم احمد غریبوں مفلسوں بیواؤں اور یتیموں کےلئے دو وقت کھانا مہیا کرانے کےلئے دن رات ایک کر رہے تھے۔ اس مادی دور میں جب بغیر نفع نقصان کا حساب لگائے ہم اپنے بچوں کا داخلہ بھی کسی اسکول کالج میں نہیں کراتے اپنے والدین کی عزت بھی اس حساب سے کرتے ہیں کہ وہ ترکے میں کتنا اثاثہ چھوڑ کر جانے والے ہیں شمیم احمد نے بغیر کسی ستائش اور صلہ کے فٹ پاتھ پر رہنے والوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر کھانا کھلا رہے ہیں۔ نہ ان کے سامنے کوئی ہندو ہے نہ مسلمان نہ کوئی بنگالی ہے نہ بہاری صرف اور صرف انسانی جذبے سے سرشار شمیم احمد گزشتہ چار مہینے سے روزانہ سیکڑوں افراد کے پیٹ کی آگ بجھا رہے ہیں۔